Posts

قرآن پاک میں حضرت ابرہیم علیہ السلام کی بیوی بی بی سارہ کا ماتم۔

Image
  حضرت ابرہیم علیہ السلام کی بیوی بی بی سارہ کا ماتم! اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ !  سورہ نمبر: 51 فَاَقۡبَلَتِ امۡرَاَتُہٗ  فِیۡ صَرَّۃٍ  فَصَکَّتۡ وَجۡہَہَا وَ قَالَتۡ عَجُوۡزٌ  عَقِیۡمٌ﴿۲۹﴾ ۲۹۔ تو ان کی زوجہ چلاتی ہوئی آئیں اور اپنا منہ  پیٹنے لگیں اور بولیں: (میں تو) ایک بڑھیا (اور ساتھ) بانجھ (بھی ہوں)۔ 29۔  صَرَّۃٍ  چیخ و پکار کو کہتے ہیں۔  فَصَکَّتۡ  کے معنی پیٹنے کے ہیں۔ دوسرے معنی لپیٹنے کے ہیں۔ یعنی اس نے اپنا ہاتھ منہ پر لپیٹ لیا۔ روایت ہے کہ حضرت سارہ کی عمر اس وقت نوے سال تھی اور بانجھ تھیں۔ اس سے پہلے اولاد نہیں ہوئی تھی۔ ممکن ہے تعجب اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنا ہاتھ منہ پر لپیٹ لیا ہو۔ سورت الذاریات۔آیت نمبر 29۔ From Syed Safeer Hussain ❤️❤️

تین گواہیاں قرآن سے ثابت۔

Image
  تین گواہیاں قرآن مجید سے ثابت۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ! فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ النُّوۡرِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلۡنَا ؕ وَ اللّٰہُ  بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ﴿۸﴾ ۸۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے ایمان لے آؤ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب آگاہ ہے۔ دوسری آیت۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ!  سورہ نمبر: 5 اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ  الزَّکٰوۃَ  وَ ہُمۡ  رٰکِعُوۡنَ﴿۵۵﴾ ۵۵۔تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔ 55۔ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی جب آپؑ نے مسجد نبویؐ میں حالت رکوع میں ایک سائل کو انگشتری عطا فرمائی۔ جس کے راوی یہ ائمہ و اصحاب ہیں: 1۔ ابن عباس 2۔ عمار یاسر 3۔ عبد اللہ بن سلام 4۔ سلمہ بن کہیل 5۔ انس بن مالک 6۔ عتبہ بن حکم 7۔ عبد اللہ بن ابی 8۔ ابوذر غفاری 9۔جابر بن عبداللہ انصاری 10۔عبد الل...

زکوٰۃ لینے سے انکار کر نے والا۔ zakaat lainy sai inqar krnai wala

Image
زکوٰۃ لینے سے  (جس پر زکوٰۃ لینا واجب ہے) انکار کر نے والا معصومین علیہم السلام کی نظر میں کیسا ہے۔ مروان بن مسلم نے عبداللہ بن ہلال سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ علیہ السلام فرما رہے تھے کہ زکوٰۃ لینے سے انکار کر نے والا اسی کی مانند ہے کہ جس پر زکوٰۃ دینا واجب ہو اور وہ زکوٰۃ دینے سے انکار کرے۔ کتاب من لا یحضرہ الفقیہ(جلد دوم صفحہ21 شیخ صدوق) ملاحظہ فرمائیں!

صدقہ کی فضیلت۔

Image
صدقہ کی فضیلت۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ! قیامت کی زمین آگ کی طرح تپ رہی ہو اور سوائے مومن کے اور کوئی سایہ میں نہ ہوگا کیونکہ اس کا صدقہ اس پر سایہ کیے ہوگا۔ کتاب من لا یحضرہ الفقیہ۔جلد دوم۔صفہ49۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ! نیکی اور صدقہ دونوں فقر کو دور کرتے ہیں عمر بڑھاتے ہیں اور ستر قسم کی بری موت سے بچاتے ہیں ۔ اور دیگر معصومین علیہم السلام بھی صدقہ کی فضیلت بیان کرتے ہیں ۔دیکھیے!

Al-Quran.

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللّٰہِ وَ لَا الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ لَا الۡہَدۡیَ وَ لَا الۡقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیۡنَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ یَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رِضۡوَانًا ؕ وَ اِذَا حَلَلۡتُمۡ فَاصۡطَادُوۡا ؕ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا ۘ وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ﴿۲﴾ ۲۔ اے ایمان والو! تم اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانور کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلے میں پٹے باندھ دیے جائیں اور نہ ان لوگوں کی جو اپنے رب کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں بیت الحرام کی طرف جا رہے ہوں، ہاں! جب تم احرام سے باہر آ جاؤ تو شکار کر سکتے ہو اور جن لوگوں نے تمہیں مسجد الحرام جانے سے روکا تھا کہیں ان کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم بھی (ان پر) زیادتیاں کرنے لگو اور (یاد رکھو) نیکی اور تقویٰ میں ا...

Al-Quran.

وَ قُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّ اجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا﴿۸۰﴾ ۸۰۔ اور یوں کہیے: پروردگارا! تو مجھے (ہر مرحلہ میں ) سچائی کے ساتھ داخل کر اور سچائی کے ساتھ (اس سے) نکال اور اپنے ہاں سے مجھے ایک قوت عطا فرما جو مددگار ثابت ہو۔ وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا﴿۷۹﴾ ۷۹۔ اور رات کا کچھ حصہ قرآن کے ساتھ بیداری میں گزارو، یہ ایک زائد (عمل) صرف آپ کے لیے ہے، امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡہُوۡدًا﴿۷۸﴾ ۷۸۔ زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب و عشاء کی) نماز قائم کرو اور فجر کی نماز بھی کیونکہ فجر کی نماز (ملائکہ کے) حضور کا وقت ہے۔

Al-Quran.

Image
اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشۡکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصۡبَاحٌ ؕ اَلۡمِصۡبَاحُ فِیۡ زُجَاجَۃٍ ؕ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوۡکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیۡتُوۡنَۃٍ لَّا شَرۡقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرۡبِیَّۃٍ ۙ یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡہُ نَارٌ ؕ نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ ؕ یَہۡدِی اللّٰہُ لِنُوۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾ ۳۵۔ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایسی ہے گویا ایک طاق ہے، اس میں ایک چراغ رکھا ہوا ہے ، چراغ شیشے کے فانوس میں ہے، فانوس گویا موتی کا چمکتا ہوا تارا ہے جو زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی، اس کا تیل روشنی دیتا ہے خواہ آگ اسے نہ چھوئے، یہ نور بالائے نور ہے، اللہ جسے چاہے اپنے نور کی راہ دکھاتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بھی بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔