Sadqa ki Fazeelat. صدقے کی فضیلتیں
57. سورۃ الحديد:اِنَّ الۡمُصَّدِّقِیۡنَ وَ الۡمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقۡرَضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَہُمۡ وَ لَہُمۡ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ﴿۱۸﴾۱۸۔ یقینا صدقہ دینے والے مردوں اور صدقہ دینے والی عورتوں نیز ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اللہ کو قرض حسنہ دیا ہے کئی گنا کر دیا جائے گا اور ان کے لیےپسندیدہ اجر ہے۔
Syed Safeer Hussain
2. سورۃ البقرة:یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ ؕ وَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴿۲۵۴﴾۲۵۴۔ اے ایمان والو! جو مال ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس دن کے جس میں نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی کا فائدہ ہو گا اور نہ سفارش چلے گی اور ظالم وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا۔ 254۔ 1۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس دن تجارت، دوستی اور سفارش کی جگہ وہ مال کام آئے گا جو دنیا میں راہ خدا میں خرچ کیا گیا ہو۔ نجات کا بہترین ذریعہ مال ہے۔ اسی لیے مال کے بارے میں اسلام کا مؤقف یہ ہے کہ مال اگر رضائے الٰہی کا ذریعہ بن جائے تو بہترین خزانہ اور توشہ آخرت ہے اور اگر مال خود ایک مقصد بن جا ئے تو اس سے بدتر کوئی چیز نہیں ہے۔2۔ خرچ یا انفاق فی سبیل اللّٰہ میں واجب و مستحب دونوں شامل ہیں۔ خرچ سے مراد مال کا خرچ، علم کا خرچ اور دیگر ہر قسم کے مخارج ہیں۔ اگر کسی کو جاہ و جلالت دی گئی ہو تو یہ بھی اللہ کی طرف سے عطا شدہ رزق ہے۔ اس کا انفاق یہ ہے کہ صاحبان جاہ و منصب اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے بندگان خدا کی خدمت کریں۔ کافر یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور نتیجتاً رزق خدا سے انفاق بھی نہیں کرتے۔ ان کے لیے آخرت میں کوئی مددگار نہ ہو گا۔ تجارت، دوستی اور شفاعت میں سے کوئی ایک چیز بھی ان کے کام نہ آئے گی۔ اس طرح سب سے بڑے ظالم یہی لوگ ہوں گے۔
Syed Safeer Hussainصدقے کی فضیلتیں۔۔صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے
صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کھانا کھلانا ہے
صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا
صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹھنڈک کا سامان ہے
میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑھاتے رہتے ہیں
صدقہ مصفیٰ ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑھاتا ہے
صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سروراورتازگی کا سبب ہے
صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا
صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سیئات کا کفارہ ہے
صدقہ خوشخبری ہے حسن ِخاتمہ کی، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے
صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہوں
صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے
خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کی مخلوق محبت کرتی ہے
صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے
صدقہ دعاؤں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے
صدقہ بلاء(مصیبت) کو دور کرتا ہے، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے
صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے، کامیابی اور رزق کا سبب ہے
صدقہ علاج بھی ہے‘ دوا بھی اور شفاء بھی
صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے، چوری اور بری موت کو روکتا ہے
صدقہ کا اجرملتا ہے، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں نہ ہوFrom Syed Safeer Hussain
Syed Safeer Hussain
2. سورۃ البقرة:یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ ؕ وَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴿۲۵۴﴾۲۵۴۔ اے ایمان والو! جو مال ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس دن کے جس میں نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی کا فائدہ ہو گا اور نہ سفارش چلے گی اور ظالم وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا۔ 254۔ 1۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس دن تجارت، دوستی اور سفارش کی جگہ وہ مال کام آئے گا جو دنیا میں راہ خدا میں خرچ کیا گیا ہو۔ نجات کا بہترین ذریعہ مال ہے۔ اسی لیے مال کے بارے میں اسلام کا مؤقف یہ ہے کہ مال اگر رضائے الٰہی کا ذریعہ بن جائے تو بہترین خزانہ اور توشہ آخرت ہے اور اگر مال خود ایک مقصد بن جا ئے تو اس سے بدتر کوئی چیز نہیں ہے۔2۔ خرچ یا انفاق فی سبیل اللّٰہ میں واجب و مستحب دونوں شامل ہیں۔ خرچ سے مراد مال کا خرچ، علم کا خرچ اور دیگر ہر قسم کے مخارج ہیں۔ اگر کسی کو جاہ و جلالت دی گئی ہو تو یہ بھی اللہ کی طرف سے عطا شدہ رزق ہے۔ اس کا انفاق یہ ہے کہ صاحبان جاہ و منصب اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے بندگان خدا کی خدمت کریں۔ کافر یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور نتیجتاً رزق خدا سے انفاق بھی نہیں کرتے۔ ان کے لیے آخرت میں کوئی مددگار نہ ہو گا۔ تجارت، دوستی اور شفاعت میں سے کوئی ایک چیز بھی ان کے کام نہ آئے گی۔ اس طرح سب سے بڑے ظالم یہی لوگ ہوں گے۔
Syed Safeer Hussainصدقے کی فضیلتیں۔۔صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے
صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کھانا کھلانا ہے
صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا
صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹھنڈک کا سامان ہے
میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑھاتے رہتے ہیں
صدقہ مصفیٰ ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑھاتا ہے
صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سروراورتازگی کا سبب ہے
صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا
صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سیئات کا کفارہ ہے
صدقہ خوشخبری ہے حسن ِخاتمہ کی، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے
صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہوں
صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے
خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کی مخلوق محبت کرتی ہے
صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے
صدقہ دعاؤں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے
صدقہ بلاء(مصیبت) کو دور کرتا ہے، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے
صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے، کامیابی اور رزق کا سبب ہے
صدقہ علاج بھی ہے‘ دوا بھی اور شفاء بھی
صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے، چوری اور بری موت کو روکتا ہے
صدقہ کا اجرملتا ہے، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں نہ ہوFrom Syed Safeer Hussain



Comments
Post a Comment